نظم

MORE BYعین رشید

    نہیں میں کسی یونانی المیے کا

    مرکزی کردار نہیں

    نہ ہی میں اس لیے بنا تھا

    میں تو ایک خاموش تماشائی ہوں

    ہزاروں سال پتھروں میں جکڑے

    کسی مرکزی کردار کی آنکھیں

    جب شاہین سے نچوائی جاتی ہیں

    اور جب وہ درد سے کراہ کر کہتا ہے

    میں تمام پیار کرنے والوں کے لیے ایک کربناک منظر ہوں

    یا سالہا سال سمندروں میں بھٹکنے والے سیاحوں سے

    خدا جب ان کے گھر آنے کا دن چھین لیتا ہے

    یا جب کوئی سرکش مرکزی یونانی کردار

    اپنے آبائی خدا سے مسکرا کر کہتا ہے

    تخلیق کے بعد مجھ پر تمہارا کوئی حق نہیں رہا

    تو میں اپنے بغل والے معصوم تماشائی سے

    ماچس مانگ کر اپنا سگریٹ سلگا لیتا ہوں

    خدا یا یہ لوگ کتنے بے وقوف ہیں

    مجھے زندگی کا کوئی تجربہ نہیں

    شاید اپنی غلطیوں کو ہنس کر بھولنے کے فقدان کو تجربہ کہتے ہیں

    یا پھر شاید اسی اختلاج کمتری کو

    ذہن کے فریم میں بند رکھنے کو

    شاید مجھے معلوم نہیں

    یہ صدی درد زچگی سے کراہ رہی ہے

    اور میں تواریخ کے شاطرانہ صحن میں

    بیٹھا سوچ رہا ہوں

    میں نہیں یہ دنیا ضعیف ہو گئی ہے

    اور جلد ہی مر جائے گی

    مگر مورخ میرے بارے میں کیا لکھیں گے

    RECITATIONS

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    نظم نعمان شوق

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY