نظم

مجید امجد

نظم

مجید امجد

MORE BY مجید امجد

    INTERESTING FACT

    (نئی قدریں، حیدر آباد سندھ۔ سالنامہ فروری، مارچ 1973ء)

    اک اک روح کے آگے اک دیوار ہے اونچی گلے گلے تک

    اک دیوار ہے رمز دروں کی

    اس دیوار کے اندر کی جانب جتنا کچھ بھی ہوتا ہے جس کے پاس خزانہ اک دردانہ یا اک تال مکھانہ

    نقد باطن یا کم از کم آب و دانہ

    جتنا کچھ بھی پاس ہو اتنی ہی دیوار یہ موٹی ہوتی ہے اور

    اس دوری کے باعث

    اتنی ہی اس روح کی بات ذرا گمبھیر اور گہری ہو جاتی ہے

    اپنے بوجھ سے بوجھل ہو جاتی ہے دیر سے سننے میں آتی ہے

    اپنے پاس تو کچھ بھی نہیں روح نہ اس کا کوئی دھارا

    اپنے پاس تو صرف اک یہ آواز ہے جس کے آگے کوئی بھی دیوار نہیں ہے

    سن سے تمہارے پاس پہنچ جاتی ہے

    اس آواز میں رمز دروں کے سارے غیر مقطر زہر ہیں اس کا برا نہ

    کبھی کبھی جی میں آئے تو سن لو

    چن لو

    رکھ لو

    چکھ لو

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY

    Added to your favorites

    Removed from your favorites