نظم

MORE BYسرمد صہبائی

    تم کس خواہش کی مستی میں

    میرے دکھوں کو

    اپنے دلاسوں کی جھولی میں ڈال سکو گے

    جھوٹے دلاسوں کی یہ جھولی

    میرے تند دکھوں سے چھلنی ہو جائے گی

    اور تیرے یہ لوے لوے ہاتھوں کی ڈھارس

    نفرت سے کمھلا جائے گی

    کیسے کھلے گا تیری بانہوں کے کندن میں

    میرا یہ سیال دکھ اور میرے صدمے

    تیرے بدن کے ان جیتے سیار سموں میں

    میرا لہو کیسے جاگے گا

    تم اپنے مخمور لبوں کے

    سرخ کفن سے

    کیسے میری نعش کا نقشہ ڈھانپ سکو گے

    کیسے اپنے اندیشوں سے

    میرے خدشے بھانپ سکو گے

    مأخذ :
    • کتاب : meyaar (Pg. 64)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے