نظم

MORE BYزاہد ڈار

    ایک تو خواب ڈراتے ہیں مجھے

    دھوپ میں زرد درختوں پہ کھلے کالے پھول

    پہلے پانی تھا جہاں دھول وہاں اڑتی ہے

    میں نے عورت کو نہیں دیکھا تھا

    اس کا پیغام ملا بارش میں

    وہ مرے پاس جب آئی تھی تو میں تنہا تھا

    اور اس پہلی ملاقات کی حیرانی میں

    آج بھی غرق ہوں میں

    لوگ جس وہم میں ہیں میں بھی ہوں

    ہے مگر اس کو محبت مجھ سے

    ورنہ کیوں خواب ڈراتے ہیں مجھے

    دھوپ میں جھلسی ہوئی سڑکوں پر

    اب نہیں چلنے کا یارا مجھ میں

    رات دن سڑکوں پہ آوارہ پھرا کرتا تھا

    اور اتنا بھی نہ سوچا تھا کبھی

    کس سے ملنے کی تمنا میں تھی وہ بے چینی

    جب سے دیکھا ہے اسے چاروں طرف

    ایک خاموشی کا منظر ہے سکوں طاری ہے

    صرف اتنا ہے کہ اب خواب ڈراتے ہیں مجھے

    پہلے دنیا میں کہیں خوف نہ تھا

    خواہشیں جاگیں تو یہ خوف بھی بے دار ہوئے

    دھوپ نکلی تو نظر آنے لگے پھول ہی پھول

    ان گنت راستے عورت نے دکھائے مجھ کو

    شہر کی جلتی جھلستی ہوئی سڑکوں سے الگ

    راستے جن پہ محبت کے سوا کچھ بھی نہیں

    اس کی آواز ہواؤں کی جگہ

    اس کی آواز پرندوں کی جگہ

    اس کی آواز ستاروں کی جگہ

    آسماں وہ ہے سمندر وہ ہے

    کچھ بھی موجود نہیں اس کی محبت کے سوا

    جب اسے دیکھتا ہوں مجھ کو نظر آتے ہیں

    سیکڑوں چاند ہزاروں سورج

    ہر طرف روشنیاں روشنیاں روشنیاں

    زندگی پہلے کبھی ایسی دل آویز نہ تھی

    ایک اک لمحہ ہے صدیوں کا سفر

    کبھی جنگل میں کبھی پربت پر

    کبھی صحراؤں میں

    کبھی ویران خلاؤں کا سفر

    وقت کی وسعتیں ٹھہرے ہوئے اک لمحے میں

    قید ہیں لمحہ مگر پھیلتا ہی جاتا ہے

    اور اب خواب ڈراتے ہیں مجھے

    اور میں سوچتا ہوں

    جانے کس خواب میں کس خواب نے کس خواب کو دیکھا ہوگا

    لوگ جس وہم میں ہیں میں بھی ہوں

    ایک عورت کا خیال.....

    مآخذ:

    • کتاب : tanhaa.ii (Pg. 201)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY