نہرو

MORE BYکیفی اعظمی

    میں نے تنہا کبھی اس کو دیکھا نہیں

    پھر بھی جب اس کو دیکھا وہ تنہا ملا

    جیسے صحرا میں چشمہ کہیں

    یا سمندر میں مینار نور

    یا کوئی فکر اوہام میں

    فکر صدیوں اکیلی اکیلی رہی

    ذہن صدیوں اکیلا اکیلا ملا

    اور اکیلا اکیلا بھٹکتا رہا

    ہر نئے ہر پرانے زمانے میں وہ

    بے زباں تیرگی میں کبھی

    اور کبھی چیختی دھوپ میں

    چاندنی میں کبھی خواب کی

    اس کی تقدیر تھی اک مسلسل تلاش

    خود کو ڈھونڈا کیا ہر فسانے میں وہ

    بوجھ سے اپنے اس کی کمر جھک گئی

    قد مگر اور کچھ اور بڑھتا رہا

    خیر و شر کی کوئی جنگ ہو

    زندگی کا ہو کوئی جہاد

    وہ ہمیشہ ہوا سب سے پہلے شہید

    سب سے پہلے وہ سولی پہ چڑھتا رہا

    جن تقاضوں نے اس کو دیا تھا جنم

    ان کی آغوش میں پھر سمایا نہ وہ

    خون میں وید گونجے ہوئے

    اور جبیں پر فروزاں اذاں

    اور سینے پہ رقصاں صلیب

    بے جھجھک سب کے قابو میں آیا نہ وہ

    ہاتھ میں اس کے کیا تھا جو دیتا ہمیں

    صرف اک کیل اس کیل کا اک نشاں

    نشۂ مے کوئی چیز ہے

    اک گھڑی دو گھڑی ایک رات

    اور حاصل وہی درد سر

    اس نے زنداں میں لیکن پیا تھا جو زہر

    اٹھ کے سینے سے بیٹھا نہ اس کا دھواں

    موضوعات:

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY