پہاڑوں کے بیٹے

مجید امجد

پہاڑوں کے بیٹے

مجید امجد

MORE BY مجید امجد

    مرے دیس کی ان زمینوں کے بیٹے جہاں صرف بے برگ پتھر ہیں صدیوں سے تنہا

    جہاں صرف بے مہر موسم ہیں اور ایک دردوں کا سیلاب ہے عمر پیما

    پہاڑوں کے بیٹے

    چنبیلی کی نکھری ہوئی پنکھڑیاں سنگ خارا کے ریزے

    سجل دودھیا نرم جسم اور کڑے کھردرے سانولے دل

    شعاعوں ہواؤں کے زخمی

    چٹانوں سے گر کر خود اپنے ہی قدموں کی مٹی میں اپنا وطن ڈھونڈتے ہیں

    وطن ڈھیر اک ان منجھے برتنوں کا

    جسے زندگی کے پسینوں میں ڈوبی ہوئی محنتیں در بہ در ڈھونڈھتی ہیں

    وطن وہ مسافر اندھیرا

    جو اونچے پہاڑوں سے گرتی ہوئی ندیوں کے کناروں پہ شاداب شہروں میں رک کر

    کسی آہنی چھت سے اٹھتا دھواں بن گیا ہے

    ندی بھی زر افشاں دھواں بھی زر افشاں

    مگر پانیوں اور پسینوں کے انمول دھارے میں جس درد کی موج ہے عمر پیما

    ضمیروں کے قاتل اگر اس کو پرکھیں

    تو سینوں میں کالی چٹانیں پگھل جائیں!

    مآخذ:

    • Book : Kulliyaat-e-majiid Amjad (Pg. 407)
    • Author : Majiid Amjad
    • اشاعت : 2011

    Tagged Under

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY