پندرہ اگست

مسعودہ حیات

پندرہ اگست

مسعودہ حیات

MORE BYمسعودہ حیات

    اہنسا کی شمشیر چمکی اسی دن

    غلامی کی زنجیر ٹوٹی اسی دن

    گلستاں کی تقدیر بدلی اسی دن

    اٹھو آج خوشیوں کے ہم گیت گائیں

    چلو اپنی دھرتی کو دلہن بنائیں

    کھلے کیسے کیسے بھرم دشمنوں کے

    رہے پھر نہ باقی ستم دشمنوں کے

    مٹے اس زمیں سے قدم دشمنوں کے

    اٹھو آج خوشیوں کے ہم گیت گائیں

    چلو اپنی دھرتی کو دلہن بنائیں

    اسی دن کی خاطر بڑے غم اٹھائے

    زمیں آسماں کے قلابے ملائے

    ذرا بھی نہ اپنے قدم ڈگمگائے

    اٹھو آج خوشیوں کے ہم گیت گائیں

    چلو اپنی دھرتی کو دلہن بنائیں

    یہ وہ دن ہے ہم جس کی برکت کو سمجھیں

    یہی دن ہے وہ جس کی قیمت کو سمجھیں

    یہی دن ہے وہ جس کی عظمت کو سمجھیں

    اٹھو آج خوشیوں کے ہم گیت گائیں

    چلو اپنی دھرتی کو دلہن بنائیں

    ترنگے کو ہم اور اونچا اٹھا دیں

    چراغوں سے ہر بام و در کو سجا دیں

    زمانے کو یہ سر خوشی بھی دکھا دیں

    اٹھو آج خوشیوں کے ہم گیت گائیں

    چلو اپنی دھرتی کو دلہن بنائیں

    مأخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے