پرندے کی آنکھ کھل جاتی ہے

سارا شگفتہ

پرندے کی آنکھ کھل جاتی ہے

سارا شگفتہ

MORE BYسارا شگفتہ

    کسی پرندے کی رات پیڑ پر پھڑپھڑاتی ہے

    رات پیڑ اور پرندہ

    اندھیرے کے یہ تینوں راہی

    ایک سیدھ میں آ کھڑے ہوتے ہیں

    رات اندھیرے میں پھنس جاتی ہے

    رات تو نے میری چھاؤں کیا کی

    جنگل چھوٹا ہے

    اس لئے تمہیں گہری لگ رہی ہوں

    گہرا تو میں پرندے کے سو جانے سے ہوا تھا

    میں روز پرندے کو دلاسہ دینے کے بعد

    اپنی کمان کی طرف لوٹ جاتی ہوں

    تیری کمان کیا صبح ہے

    میں جب مری تو میرا نام رات رکھ دیا گیا

    اب میرا نام فاصلہ ہے

    تیرا دوسرا جنم کب ہوگا

    جب یہ پرندہ بیدار ہوگا

    پرندے کا چہچہانا ہی میرا جنم دن ہے

    فاصلہ اور پیڑ ہاتھ ملاتے ہیں

    اور پرندے کی آنکھ کھل جاتی ہے

    RECITATIONS

    عذرا نقوی

    عذرا نقوی

    عذرا نقوی

    Parinde ki ankh khul jati hai عذرا نقوی

    مآخذ
    • کتاب : AN EVENING OF CAGED BEASTS (Pg. 160)
    • Author : Asif Farrukhi
    • مطبع : Ameena Saiyid, Oxford University (1999)
    • اشاعت : 1999

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY