پرندے لوٹ آئے

زبیر رضوی

پرندے لوٹ آئے

زبیر رضوی

MORE BYزبیر رضوی

    پرانی بات ہے

    لیکن یہ انہونی سی لگتی ہے

    ہوا اک بار یوں

    بستی کے باغوں میں

    کسی بھی پیڑ کی ٹہنی پہ کوئی پھل نہیں آیا

    ہرے پتوں کا موسم لوٹ کر واپس نہیں آیا

    پرندے رو دیئے

    اور دور کے باغوں میں ہجرت کر گئے سارے

    بہت آزردہ ہو کر باغبانوں نے

    دعائیں کیں

    مناجاتیں پڑھیں

    اپنے گناہوں کی

    خدائے لم یزل سے معافیاں مانگیں

    اور کیاریاں کاٹیں

    ہرے پتوں کا موسم لوٹ کر واپس نہیں آیا

    پرندے لوٹ آئے تھے

    نئی بستی کے باغوں سے

    ہرے پتوں کی ٹہنی توڑ لائے تھے

    مآخذ:

    • کتاب : purani baat hai (Pg. 20)

    Tagged Under

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY