پتھر کے اس بت کی کہانی

عرش صدیقی

پتھر کے اس بت کی کہانی

عرش صدیقی

MORE BY عرش صدیقی

    سفر میرا اگرچہ منزل اور انجام کی خوشیوں سے عاری تھا

    مگر چلنا مقدر تھا

    کہ میرے اور اس کے درمیاں جو مختصر سا فاصلہ تھا وہ نہ مٹتا تھا

    مجھے اس کے تعاقب میں نہ جانے کتنے صدیوں سے برس بیتے

    نہ جانے کتنے صحراؤں بیابانوں

    نہ جانے کتنے شہروں اور ویرانوں سے میں گزرا

    نہ جانے کتنی آوازوں نے مجھ کو روکنا چاہا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY