پھر وہی شب کے سرابوں کا چلن!

اختر ضیائی

پھر وہی شب کے سرابوں کا چلن!

اختر ضیائی

MORE BYاختر ضیائی

    پھر وہی خواب نما

    شب کے سرابوں کا چلن جاری ہے

    شب کہ اس بار صفیران چمن

    اور بھی کچھ بھاری ہے

    گل پہ شبنم پہ عنادل پہ

    صبا اور ہوا سب پہ

    وہی سحر الم طاری ہے

    پھر اسی طرز کہن

    میں نیا انداز فسوں کاری ہے

    سخت مشکل میں ہیں

    اے جان وفا ارض وطن

    حرف مقصود رقیبوں کو گوارہ بھی نہیں

    کیا کریں صبر کا یارا بھی نہیں

    کیسے تعمیر کی تزئین کی پھر بات کریں

    خون دل نذر گرانبارئ اوقات کریں

    ہم تہی دست جو آہوں میں اثر مانگتے ہیں

    سبز و شاداب حسیں خلد نظر مانگتے ہیں

    اپنی مجبور تمنا کا نگر مانگتے ہیں

    ایک بے داغ سحر مانگتے ہیں!!

    مآخذ
    • کتاب : ajnabii musamo.n ki khushboo (Pg. 80)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY