پیر تسمۂ پا

کیفی اعظمی

پیر تسمۂ پا

کیفی اعظمی

MORE BYکیفی اعظمی

    میرے کاندھے پہ بیٹھا کوئی

    پڑھتا رہتا ہے انجیل و قرآن و وید

    مکھیاں کان میں بھنبھناتی ہیں

    زخمی ہیں کان

    اپنی آواز کیسے سنوں

    رانا ہندو تھا اکبر مسلمان تھا

    سنجے وہ پہلا انسان تھا

    ہستناپور میں جس نے قبل مسیح

    ٹیلی ویژن بنایا

    اور گھر بیٹھے اک اندھے راجہ کو

    یدھ کا تماشہ دکھایا

    آدمی چاند پر آج اترا تو کیا

    یہ ترقی نہیں

    اب سے پہلے، بہت پہلے

    جب ذرہ ٹوٹا نہ تھا

    چشمہ جوہر کا پھوٹا نہ تھا

    فرش سے عرش تک جا چکا ہے کوئی

    یہ اور ایسی بہت سی جہالت کی باتیں

    میرے کاندھے پہ ہوتی ہیں

    کاندھے جھکے جا رہے ہیں

    قد مرا رات دن گھٹ رہا ہے

    سر کہیں پاؤں سے مل نہ جائے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY