کسان

MORE BYمیکش اکبرآبادی

    برہنہ جسم پسینہ میں غرق ننگے پاؤں

    مگر سکون ہے یوں دل میں جیسے ٹھنڈی چھاؤں

    گیہوں کے کھیت سے کٹیا میں اپنی آیا ہے

    تصورات کی دنیا بھی ساتھ لایا ہے

    ہے اک پھٹی ہوئی کمبل غریب کاندھوں پر

    سیاہ ابر پہ رہ رہ کر اٹھ رہی ہے نظر

    پڑا ہے کھیت کا سامان ایک کونے میں

    ہیں اس کی زیست کے اسرار پا کے کھونے میں

    نفس ہے پھولی ہوئی جیسے پھونک بھتے کی

    رکھی ہے کان پہ بیڑی بنا کے پتے کی

    لہو کی لہر سی ہے موجزن پسینے میں

    بقائے دہر کا ہے راز اس کو جینے میں

    ہر ایک سانس ہے اس کی بہار آزادی

    کہ اس غلام کا دل ہے دیار آزادی

    مأخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے