پرسہ

MORE BYانجم سلیمی

    INTERESTING FACT

    (دوست نذر_جاویدؔ کے والد_محترم کی رحلت پر)

    بستر پر مٹھی بھر ہڈیاں رہ گئیں

    تو مسیحا نے بتایا

    اب مٹی پر زیادہ حق مٹی کا ہے

    سو ہم نے مٹی پر مٹی لیپ کر اس پر ایک چراغ

    کا کتبہ لکھا

    رات!!! صبح تک ہوا پھونکتی پھرتی تھی

    اور ستارے ہماری ہتھیلیوں پر پڑے میلے

    ہوتے رہے

    آنسوؤں کو صبر کا کفن کہاں سے دیں

    پھول اپنی خوشبو چھوڑتا ہے ہنسی نہیں چھوڑتا

    غم زدو!!! چراغ آنکھوں کو سونپ دو

    کہ آنسو صرف چراغ روتا ہے

    جس ہاتھ پر چراغ دھرا تھا

    وہ ہاتھ ہماری چھت تھا

    در و دیوار پر چھت نہ رہے

    تو بادل بھی حوصلہ ہار دیتے ہیں

    تمہارے آسمان پر روتے ہوئے خیال آیا

    میرا آسمان بھی کتنا بوڑھا ہو گیا ہے

    کچھ آنسو بچا لے میرے دوست!

    مآخذ
    • کتاب : Aik Qadeem Khayal Ki Nigrani Mein (Pg. 89)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY