ایک خواب

گلزار

ایک خواب

گلزار

MORE BYگلزار

    دلچسپ معلومات

    یہ نظم گلزار نے اپنی فلم 'کنارہ' (1977) میں استمعال کی|

    ایک ہی خواب کئی بار یوں ہی دیکھا میں نے

    تو نے ساڑی میں اڑس لی ہیں مری چابیاں گھر کی

    اور چلی آئی ہے بس یوں ہی مرا ہاتھ پکڑ کر

    گھر کی ہر چیز سنبھالے ہوئے اپنائے ہوئے تو

    تو مرے پاس مرے گھر پہ مرے ساتھ ہے سونوںؔ

    میز پر پھول سجاتے ہوئے دیکھا ہے کئی بار

    اور بستر سے کئی بار جگایا بھی ہے تجھ کو

    چلتے پھرتے ترے قدموں کی وہ آہٹ بھی سنی ہے

    گنگناتی ہوئی نکلی ہے غسل خانے سے جب بھی

    اپنے بھیگے ہوئے بالوں سے ٹپکتا ہوا پانی

    میرے چہرے پر چھڑک دیتی ہے تو سونوںؔ کی بچی

    فرش پر لیٹ گئی ہے تو کبھی روٹھ کے مجھ سے

    اور کبھی فرش سے مجھ کو بھی اٹھایا ہے منا کر

    تاش کے پتوں پہ لڑتی ہے کبھی کھیل میں مجھ سے

    اور کبھی لڑتی بھی ایسے ہے کہ بس کھیل رہی ہے

    اور آغوش میں ننھے کو

    اور معلوم ہے جب دیکھا تھا یہ خواب تمہارا

    اپنے بستر پہ میں اس وقت پڑا جاگ رہا تھا

    مأخذ :
    • کتاب : Pukhraj (Pg. 135)
    • Author : Gulzar
    • مطبع : Roopa Publications India Pvt. (2014)
    • اشاعت : 2014

    موضوعات :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY