پیاسا اونٹ

علی اکبر ناطق

پیاسا اونٹ

علی اکبر ناطق

MORE BYعلی اکبر ناطق

    جس وقت مہار اٹھائی تھی میرا اونٹ بھی پیاسا تھا

    مشکیزے میں خون بھرا تھا آنکھ میں صحرا پھیلا تھا

    خشک ببولوں کی شاخوں پر سانپ نے حلقے ڈالے تھے

    جن کی سرخ زبانوں سے پتوں نے زہر کشید کیا

    کالی گردن پیلی آنکھوں والی بن کی ایک چڑیل

    نیلے پنجوں والے ناخن جن کے اندر چکنا میل

    ایک کٹورا خشک لہو کا اس میں لاکھوں رینگتے بچھو

    ہم دونوں نے تیز کیے تھے اوپر نیچے والے دانت

    خشک لہو کو کاٹ کے کھایا اور پیا پھر مشکیزہ

    اس کے بعد اچانک دیکھا صحرا خون کا دریا تھا

    میں اور ڈائن سانپ اور بچھو سب کچھ اس میں ڈوب رہے تھے

    لیکن اونٹ وہ پیاسا میرا ہم سے ڈر کر بھاگ گیا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے