قانون قدرت

احمد ندیم قاسمی

قانون قدرت

احمد ندیم قاسمی

MORE BYاحمد ندیم قاسمی

    گلیوں کی شمعیں بجھ گئیں اور شہر سونا ہو گیا

    بجلی کا کھمبا تھام کر بانکا سپاہی سو گیا

    تاریکیوں کی دیویاں کرنے لگیں سرگوشیاں

    اک دھیمی دھیمی تان میں گانے لگیں خاموشیاں

    مشرق کے پربت سے ورے ابھریں گھٹائیں یک بیک

    انگڑائیاں لینے لگیں بے خود ہوائیں یک بیک

    تارے نگلتی بدلیاں چاروں طرف چھانے لگیں

    چھم چھم پھواروں کی جھڑی دھرتی پہ برسانے لگیں

    کتے اچانک چونک کر بھونکے دبک کر سو گئے

    بے رس چچوڑی ہڈیوں کی لذتوں میں کھو گئے

    مائیں لپکتی ہیں کہیں بچے بلکتے ہیں کہیں

    اور کھاٹ لینے کے لیے بوڑھے اچکتے ہیں کہیں

    اک سرسراہٹ سی اٹھی لہرائی تھم کر رہ گئی

    ہر چیز نے آنکھیں ملیں ہر چیز جم کر رہ گئی

    پھر گنگناتی ظلمتوں کا سحر ہر سو چھا گیا

    بادل کہیں گم ہوگئے تاروں پہ جوبن آ گیا

    قدرت کے سب چھوٹے بڑے قانون ہیں یکساں مگر

    پردے پڑے ہیں جا بجا چھنتی نہیں جن سے نظر

    انسان کا معصوم دل تاریک سونا شہر ہے

    جس کے تلے احساس کی چنگاریوں کی لہر ہے

    جب دیکھتا ہے وہ کہیں بدمست پنگھٹ والیاں

    گالوں کو جن کے چومتی ہیں پتلی پتلی بالیاں

    زلفیں گھٹاؤں کی طرح آنکھیں ستاروں کی طرح

    چلنا ہواؤں کی طرح رنگت شراروں کی طرح

    لہنگے کی لہروں کے تلے مکھن سے پاؤں رقص میں

    پگڈنڈیوں کے اس طرف گاگر کی چھاؤں رقص میں

    سینے چھلکتے مے کدے اور ہونٹ پیمانوں کے لب

    ٹخنوں پہ بجتی جھانجھنیں ہنسنا ہنسانا بے سبب

    یہ دیکھ کر انگڑائیاں لیتا ہے دل انسان کا

    اور اس کی ہر دھڑکن پہ ہوتا ہے گماں طوفان کا

    گلیوں میں چھپ جاتی ہیں جب یہ چلتی پھرتی بجلیاں

    ہوتا ہے طاری روح پر سنسان راتوں کا سماں

    مآخذ:

    • کتاب : meri behtareen nazam (Pg. 25)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY