قرب قیامت

خورشید رضوی

قرب قیامت

خورشید رضوی

MORE BY خورشید رضوی

    یہ چڑیا جو پنکھے سے ٹکرا گئی ہے

    اسے تو فقط آشیانہ بنانے کی دھن تھی

    اسے وقت کی پیٹھ سے لاکھ دو لاکھ سالوں کے گرنے کا اندازہ کب تھا

    اسے کیا خبر تھی

    وہ سر سبز ایام مرجھا چکے ہیں

    وہ انساں سے پہلے کے شاداب جنگل

    جہاں گھونسلوں اور اڑانوں کے مابین

    دھاتوں کی پراں فصلیں نہیں تھیں

    عقابوں کے پر آج بھی سرسرائیں

    تو معصوم چڑیوں کے دل سہم جائیں

    مگر ان کو معلوم کیا ہے

    کہ قرب قیامت کے آثار پیدا ہیں

    بے جان لوہے کو پر لگ گئے ہیں

    مآخذ:

    • Book : sarabon ke sadaf (Pg. 120)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY