راجا رانی کی کہانی

صوفی تبسم

راجا رانی کی کہانی

صوفی تبسم

MORE BYصوفی تبسم

    آؤ بچو سنو کہانی

    ایک تھا راجا ایک تھی رانی

    دونوں اک دن شہر میں آئے

    شہر سے اک اک گڑیا لائے

    راجہ کی گڑیا تھی دبلی

    رانی کی گڑیا تھی موٹی

    راجہ کی گڑیا تھی لمبی

    رانی کی گڑیا تھی چھوٹی

    راجا بولا میری گڑیا

    میری گڑیا بڑی سیانی

    گڑیاؤں میں جیسے رانی

    رانی بولی ''میری گڑیا''

    میری گڑیا کے کیا کہنے

    اچھے اچھے گہنے پہنے

    راجا بولا ''میری گڑیا''

    میری گڑیا بین بجائے

    میٹھے میٹھے گانے گائے

    رانی بولی ''میری گڑیا''

    میری گڑیا ناچ دکھائے

    اچھلے کودے شور مچائے

    دونوں میں بس ہوئی لڑائی

    دونوں نے کی ہاتھاپائی

    رانی بولی سن مری بات

    میری گڑیا کے دو ہات

    ایک سے کھائے دال چپاتی

    ایک سے کھائے ساگ اور پات

    راجا بولا بس چپ کر

    میری گڑیا کے دو سر

    جیسے چڑیا کے دو پر

    ایک ادھر اور ایک ادھر

    رانی بولی ہوں ہوں ہوں

    میری گڑیا کے دو موں

    ایک سے کھائے گرم پکوڑے

    ایک سے بولے سوں سوں سوں

    اتنے میں اک بڑھیا مائی

    دوڑی دوڑی اندر آئی

    آتے ہی اک ڈانٹ پلائی

    کیا ہے جھگڑا کیا ہے لڑائی

    یہ بھی گڑیا وہ بھی گڑیا

    یہ بھی سیانی وہ بھی سیانی

    تو ہے راجا تو ہے رانی

    ختم کرو یہ رام کہانی

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY