رات ابھی آدھی گزری ہے

عین تابش

رات ابھی آدھی گزری ہے

عین تابش

MORE BYعین تابش

    رات ابھی آدھی گزری ہے

    شہر کی رونق بجھی نہیں ہے

    تھکے نہیں ہیں اس محفل کے ساز ابھی تک

    یاد کے بالا خانوں سے آتی ہے کچھ آواز ابھی تک

    میں کہ زوال شہر کا نوحہ لکھنے والا

    ایک پرانا قصہ گو ہوں

    علامتوں کے جنگل سے

    صندل کی لکڑی ہاتھ میں لے کر

    ایوانوں سے گزر رہا ہوں

    سازندے اب

    آخری تھاپ کی محرومی

    شب کی میزاں پر تول رہے ہیں

    دھیمے سروں میں

    سست پرندے

    اپنی بولی بول رہے ہیں

    ادھر گلی میں

    مورخین باب مشرق

    نئی کتابیں کھول رہے ہیں

    رات ابھی آدھی گزری ہے

    لیکن صبح نو کی کرنیں

    اپنا رستہ ڈھونڈھتی

    مصر کے بازاروں میں اتر رہی ہیں

    آدھی رات کے بعد

    طبل بجتا ہے تازہ منظر کا

    مجھے بھی سارا حساب برابر کرنا ہے اپنے گھر کا

    مأخذ :
    • کتاب : dasht ajab hairanii ka shayar (Pg. 12)
    • Author : ain tabish
    • مطبع : Educational publishing house (2013)
    • اشاعت : 2013

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY