رد عمل

زبیر رضوی

رد عمل

زبیر رضوی

MORE BYزبیر رضوی

    مجھے یہ یقیں تھا

    کہ جب میں سناؤں گا

    اس شہر کو

    شب کے پہلو میں کس طرح پایا ہے میں نے

    تو سب لوگ میرے قریب آ کے

    حیرت سے مجھ کو تکیں گے

    بھری پیالیاں چائے کی

    ہاتھ سے چھوٹ کر گر پڑیں گی

    نگاہوں میں

    گہری اداسی کے بادل امڈنے لگیں گے

    نئے معاشرے کی

    بد اعمالیوں اور بد چلنیوں پر

    بڑے سخت لہجے میں تنقید ہوگی

    مگر کوئی پیالی نہ ہاتھوں سے چھوٹی

    نہ گہری اداسی نگاہوں میں امڈی

    نئے معاشرے کی

    بد اعمالیوں اور بد چلنیوں پر

    کسی نے نہ سنگ ملامت ہی پھینکا

    سنا صرف اتنا

    ابھی تم کو اس شہر کے جاننے میں کئی دن لگیں گے

    ویڈیو
    This video is playing from YouTube

    Videos
    This video is playing from YouTube

    زبیر رضوی

    زبیر رضوی

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY