رقص

MORE BYراجیندر منچندا بانی

    ناچ ہاں ناچ کہ ہر شورش و ہنگامہ پر

    پھیل جائے تری جھن جھن کا حسیں پیراہن

    ناچ ہاں ناچ کہ سینے میں ترے

    ایک موتی کی طرح راز زمانے کا سمٹ کر رہ جائے

    بازوؤں کو کبھی ہونے دے دراز

    جمع کرنے دے خد و خال کبھی اپنی حسیں آنکھوں کو

    فرش آواز پہ رکھ اپنے پر اسرار قدم

    اور چمکتے ہوئے سنگیت کا جادو پی جا

    ناچ صد نشہ و شادابی سے

    ناچتی جا اسی مستی میں کہ تو ایک کنول بن جائے

    اور تجھ کو کسی تالاب کے سینے میں اتار آئیں ہم

    بھوت آ کر تری رنگت میں بسیرا کر لیں

    اور ہم

    بوڑھے درختوں کی کہن سال لٹکتی ہوئی شاخوں

    سے لپٹ کر روئیں

    سالہا سال لپٹ کر روئیں

    مأخذ :
    • کتاب : Kulliyat-e-bani (Pg. 106)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے