رس بھرے ہونٹ

محمد دین تاثیر

رس بھرے ہونٹ

محمد دین تاثیر

MORE BYمحمد دین تاثیر

    رس بھرے ہونٹ

    پھول سے ہلکے

    جیسے بلور کی صراحی میں

    بادۂ آتشیں نفس چھلکے

    جیسے نرگس کی گول آنکھوں سے

    ایک شبنم کا ارغواں قطرہ

    شفق صبح سے درخشندہ

    دھیرے دھیرے سنبھل سنبھل ڈھلکے

    رس بھرے ہونٹ یوں لرزتے ہیں.....!

    یوں لرزتے ہیں جس طرح کوئی

    رات دن کا تھکا ہوا راہی

    پاؤں چھلنی نگاہ متزلزل

    وقت صحرائے بیکراں کہ جہاں

    سنگ منزل نما نہ آج نہ کل.....

    دفعتاً دور..... دور!..... آنکھ سے دور

    شفق شام کی سیاہی میں

    قلب کی آرزو نگاہی میں

    فرش سے عرش تک جھلک اٹھے

    ایک دھوکا..... سراب..... منبع نور.....!

    رس بھرے ہونٹ دیکھ کر تاثیرؔ

    رات دن کے تھکے ہوئے راہی

    یوں ترستے ہیں، یوں لرزتے ہیں.....!

    مآخذ:

    • کتاب : meri behtareen nazam (Pg. 108)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY