رتجگوں کا زوال

شہریار

رتجگوں کا زوال

شہریار

MORE BYشہریار

    وہ اندھیری رات کی چاپ تھی

    جو گزر گئی

    کبھی کھڑکیوں پہ نہ جھک سکی

    کسی راستے میں نہ رک سکی

    اسے جانے کس کی تلاش تھی

    مری آنکھ اوس سے تر رہی ہے

    مجھے خواب بننے کی لت رہی

    کبھی ایک سونی سی رہ گزر پہ کھڑا تھا میں

    کبھی دور ریل کی پٹریوں پہ پڑا تھا میں

    وہ کسی کے جسم کی چاپ تھی

    جو گزر گئی

    اسے جانے کس کی تلاش تھی

    مرے دل کے دشت کی ریت ہی میں کھلی تھی وہ

    مجھے اک گلی میں ملی تھی وہ

    اسے مجھ سے شوق وصال تھا

    مرے خواب مجھ سے خفا ہوئے

    مجھے نیند آئی میں سو گیا

    یہی رتجگوں کا زوال تھا

    مآخذ
    • کتاب : sooraj ko nikalta dekhoon (Pg. 414)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY