رینگے لمحوں کا خوف

کوثر نیازی

رینگے لمحوں کا خوف

کوثر نیازی

MORE BYکوثر نیازی

    میں ایٹم بم کے ڈھیر پہ بیٹھا سوچ رہا تھا

    یہ روشنیوں اور رنگوں کا سیلاب رواں

    یہ ریشم کے لچھوں ایسا نرم بدن

    یہ برف کے گالے سے اس ننھے سیب کی نیند

    یہ اس کی فرشتوں جیسی معصومانہ ہنسی

    یہ گندم کے دانوں سے ننھے ننھے دانت

    یہ کلیوں کی مانند تر و تازہ رخسار

    یہ گیسوں کی خوشبو سے ناواقف ناک

    یہ سگریٹ کے دھوئیں سے بیگانہ دہن

    یہ میرے اپنے دل سی کشادہ پیشانی

    یہ صبح کی پہلی کرنوں جیسے اس کے بال

    یہ سب کچھ اس کا اپنا ہے لیکن پھر بھی

    یہ سب کچھ آخر کب تک اس کا اپنا ہے

    یہ میرا اپنا خون ہے میرے ہاتھوں میں

    یا میری سہمی سہمی بے خواب آنکھوں میں

    یہ مستقبل کا کوئی بھیانک سپنا ہے

    میں خود اپنی ہی سوچوں کے پر نوچ رہا تھا

    میں ایٹم بم کے ڈھیر پہ بیٹھا سوچ رہا تھا

    مآخذ :
    • کتاب : Nuquush (Pg. 482)
    • مطبع : Idara-e-Frog-e-Urdu, Lahore (1985, Issue No. 132 )
    • اشاعت : 1985, Issue No. 132

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY