سائے

شہریار

سائے

شہریار

MORE BYشہریار

    اداس شہر کی گلیوں میں رقص کرتے ہیں

    بلائیں لیتے ہیں آوارہ گرد خوابوں کی

    دعائیں دیتے ہیں بچھڑے ہوؤں کو ملنے کی

    سنوارتے ہیں خم گیسوئے تمنا کو

    پکارتے ہیں کسی اجنبی مسیحا کو

    سمیٹ لیتا ہے جب چاند اپنی کرنوں کو

    تو دن کے گہرے سمندر میں ڈوب جاتے ہیں

    یوں ہی ہمیشہ طلوع و غروب ہوتے ہیں

    مآخذ
    • کتاب : sooraj ko nikalta dekhoon (Pg. 79)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY