سال نو

MORE BYعلی سردار جعفری

    یہ کس نے فون پہ دی سال نو کی تہنیت مجھ کو

    تمنا رقص کرتی ہے تخیل گنگناتا ہے

    تصور اک نئے احساس کی جنت میں لے آیا

    نگاہوں میں کوئی رنگین چہرہ مسکراتا ہے

    جبیں کی چھوٹ پڑتی ہے فلک کے ماہ پاروں پر

    ضیا پھیلی ہوئی ہے سارا عالم جگمگاتا ہے

    شفق کے نور سے روشن ہیں محرابیں فضاؤں کی

    ثریا کی جبیں زہرہ کا عارض تمتماتا ہے

    پرانے سال کی ٹھٹھری ہوئی پرچھائیاں سمٹیں

    نئے دن کا نیا سورج افق پر اٹھتا آتا ہے

    زمیں نے پھر نئے سر سے نیا رخت سفر باندھا

    خوشی میں ہر قدم پر آفتاب آنکھیں بچھاتا ہے

    ہزاروں خواہشیں انگڑائیاں لیتی ہیں سینے میں

    جہان آرزو کا ذرہ ذرہ گنگناتا ہے

    امیدیں ڈال کر آنکھوں میں آنکھیں مسکراتی ہیں

    زمانہ جنبش مژگاں سے افسانے سناتا ہے

    مسرت کے جواں ملاح کشتی لے کے نکلے ہیں

    غموں کے ناخداؤں کا سفینہ ڈگمگاتا ہے

    خوشی مجھ کو بھی ہے لیکن میں یہ محسوس کرتا ہوں

    مسرت کے اس آئینے میں غم بھی جھلملاتا ہے

    ہمارے دور محکومی کی مدت گھٹتی جاتی ہے

    غلامی کے زمانے میں اضافہ ہوتا جاتا ہے

    یہی انداز گر باقی ہیں اپنی سست گامی کے

    نہ جانے اور کتنے سال آئیں گے غلامی کے

    مأخذ :
    • کتاب : Kulliyat-e-Ali Sardar Jafri(Vol-I) (Pg. 75)
    • Author : Ali Ahmad Fatma
    • مطبع : Qaumi Council Barai Farog Urdu Zaban New Delhi (2004)
    • اشاعت : 2004

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY