سال گرہ کا تحفہ

امین حزیں

سال گرہ کا تحفہ

امین حزیں

MORE BYامین حزیں

    میری بارہویں سال گرہ پر

    سب نے نوازا تحفے دے کر

    ابا اک سائیکل لے آئے

    امی نے لڈو بنوائے

    دیدی نے کپڑے سلوائے

    بھیا گیند اور بلا لائے

    ہر اک کچھ نہ کچھ لایا تھا

    اک تحفہ تھا ماسٹر جی کا

    ماسٹر جی لائے تھے کھلونا

    سب سے الگ سب سے نرالا

    اک قطار میں تین تھے بندر

    کیا خوبی تھی ان کے اندر

    اک تھا ہاتھ سے آنکھیں موندے

    دوسرا منہ پر ہاتھ تھا رکھے

    اور جو تیسرا بندر دیکھا

    ہاتھ جو تھا کانوں پر رکھا

    ماسٹر جی سے پوچھا میں نے

    کیسا کھلونا ہے کیا جانے

    کہنے لگے لو غور سے سن لو

    پہلے سن لو پھر منہ کھولو

    اک کہتا ہے برا نہ دیکھو

    دوسرا بولے برا نہ بولو

    اور تیسرے کا یہ ہے کہنا

    برا کسی سے کبھی نہ سننا

    کیوں بھئی کیسا ہے یہ تحفہ

    ہے کہ نہیں یہ سب کی پسند کا

    ماسٹر جی کی باتیں سن کر

    ملی نصیحت سال گرہ پر

    خوش تھے میرے امی ابا

    تحفہ دیکھ کے ماسٹر جی کا

    مأخذ :
    • کتاب : kulliyat-e-Ameen-E-Hazeen (Pg. 140)
    • Author : Ameen Hazin
    • مطبع : Sani Publication 390,Nana Peth,Pune-2 (2005)
    • اشاعت : 2005

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY