سانپ کو مت جگا

ستیہ پال آنند

سانپ کو مت جگا

ستیہ پال آنند

MORE BYستیہ پال آنند

    INTERESTING FACT

    چھٹے مصرع میں ''شکھنڈی'' مہا بھارت میں ایک اہم کردار ''اینڈرو'' یعنی مرد اور عورت دونوں کی خصوصیات کا حامل تھا۔ بھیشم پتامہ نے اسے کنیا ( لڑکی ) سمجھ کر اس پر تیر چلانے سے انکار کر دیا تھا

    سانپ سویا ہوا ہے بڑی دیر سے

    سردیوں کی اندھیری پٹاری میں کنڈل سا لپٹا ہوا

    اپنی اکلوتی بند آنکھ کھولے ہوئے

    پچھلی رت کے کسی بین کے سر سے سرشار

    پھن کو اٹھانے کے خوابوں سے دو چار ہے

    سانپ کو مت جگا، اے شکھنڈی ٹھہر

    سانپ ایک بار بیدار ہو کر اٹھا

    تو وہ عادت سے مجبور پھن کو اٹھائے ہوئے

    آنے والے کسی سرد موسم تلک

    بیضوی بانبیاں ڈھونڈھتا

    گھاس میں جا بجا لپلپاتا پھرے گا

    مآخذ :
    • کتاب : Jalta Hai Badan (Pg. 61)
    • Author : Zahid Hasan
    • مطبع : Apnaidara, Lahore (2002)
    • اشاعت : 2002

    موضوعات:

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY