ساقی

اسرار الحق مجاز

ساقی

اسرار الحق مجاز

MORE BY اسرار الحق مجاز

    مری مستی میں بھی اب ہوش ہی کا طور ہے ساقی

    ترے ساغر میں یہ صہبا نہیں کچھ اور ہے ساقی

    بھڑکتی جا رہی ہے دم بدم اک آگ سی دل میں

    یہ کیسے جام ہیں ساقی یہ کیسا دور ہے ساقی

    وہ شے دے جس سے نیند آ جائے عقل فتنہ پرور کو

    کہ دل آزردۂ تمییز لطف‌‌ و جور ہے ساقی

    کہیں اک رند اور واماندۂ افکار تنہائی

    کہیں محفل کی محفل طور سے بے طور ہے ساقی

    جوانی اور یوں گھر جائے طوفان حوادث میں

    خدا رکھے ابھی تو بے خودی کا دور ہے ساقی

    چھلکتی ہے جو تیرے جام سے اس مے کا کیا کہنا

    ترے شاداب ہونٹوں کی مگر کچھ اور ہے ساقی

    مجھے پینے دے پینے دے کہ تیرے جام لعلیں میں

    ابھی کچھ اور ہے کچھ اور ہے کچھ اور ہے ساقی

    مآخذ:

    • Book : Kullyat-e-majaz (Pg. 141)
    • Author : Asrarul Haque Majaz
    • مطبع : Kitabi Duniya (2006)
    • اشاعت : 2006

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY