سچائی

رئیس فروغ

سچائی

رئیس فروغ

MORE BYرئیس فروغ

    میرے ایک ہاتھ پر مہتاب

    اور ایک ہاتھ پر خورشید رکھ دو

    پھر بھی میں وہ بات دہراؤں گا

    جو سچ ہے

    یہ سچائی

    جو نازک بیل کی مانند

    حسن و خیر کی خوشبو لئے

    لمحے سے لمحے کی طرف چلتی رہی

    اور مرے باغ تک پہنچی

    سو جب میں مامتا کی کانپتی باہوں میں خوابیدہ تھا

    میرے باپ نے مجھ کو جگایا

    اور کہا

    لا الہٰ الا اللہ

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY