سفر اور ہم سفر

احمد ندیم قاسمی

سفر اور ہم سفر

احمد ندیم قاسمی

MORE BYاحمد ندیم قاسمی

    جنگل جنگل آگ لگی ہے بستی بستی ویراں ہے

    کھیتی کھیتی راکھ اڑتی ہے دنیا ہے کہ بیاباں ہے

    سناٹے کی ہیبت نے سانسوں میں پکاریں بھر دی ہیں

    ذہنوں میں مبہوت خیالوں نے تلواریں بھر دی ہیں

    قدم قدم پر جھلسے جھلسے خواب پڑے ہیں راہوں میں

    صبح کو جیسے کالے کالے دئیے عبادت گاہوں میں

    ایک اک سنگ میل میں کتنی آنکھیں ہیں پتھرائی ہوئی

    ایک اک نقش قدم میں کتنی رفتاریں کفنائی ہوئی

    ہم سفرو اے ہم سفرو کچھ اور بھی نزدیک آ کے چلو

    جب چلنا ہی مقدر ٹھہرا ہاتھ میں ہاتھ ملا کے چلو

    RECITATIONS

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    سفر اور ہم سفر نعمان شوق

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY