Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

صلیبیں

سوہن راہی

صلیبیں

سوہن راہی

MORE BYسوہن راہی

    زمانے کی رفتار سے تنگ آ کر

    صلیبیں اٹھائے سبھی چل رہے ہیں

    غموں کی صلیبیں دکھوں کی صلیبیں

    صلیبیں اٹھائے سبھی جی رہے ہیں

    کہ زہر حقیقت سبھی پی رہے ہیں

    مگر حیف صد حیف سارے جہاں میں

    کوئی بھی کسی کا مسیحا نہیں ہے

    زمانے کے حالات سے کیا لڑیں گے

    دلوں پہ جفاؤں کے کوڑے پڑیں گے

    نگاہوں سے نمناک موتی جھڑیں گے

    زمانے کی رفتار سے تنگ آ کر

    صلیبیں اٹھائے سبھی چل رہے ہیں

    مگر ہم میں شوق شہادت نہیں ہے

    نظام غلط سے بغاوت نہیں ہے

    صداقت کا راہیؔ بہت دور ہوگا

    نہ عیسیٰ ہے کوئی نہ منصور ہوگا

    روایات کے زہر میں گھول کر یوں

    لہو پینے والوں کی افراط ہوگی

    مگر شخصیت کون سقراط ہوگی

    غموں کی صلیبیں دکھوں کی صلیبیں

    صلیبیں اٹھائے سبھی چل رہے ہیں

    مأخذ:

    Zakhm Ghunghat Dhoop (Pg. 32)

    • مصنف: سوہن راہی
      • اشاعت: 1998
      • ناشر: ایجو کیشنل پبلشنگ ہاؤس، نئی دہلی
      • سن اشاعت: 1998

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY

    Jashn-e-Rekhta | 8-9-10 December 2023 - Major Dhyan Chand National Stadium, Near India Gate - New Delhi

    GET YOUR PASS
    بولیے