سندیسہ

سلیم کوثر

سندیسہ

سلیم کوثر

MORE BYسلیم کوثر

    دلچسپ معلومات

    (جون؍ 1986)

    اسے کہنا

    کبھی ملنے چلا آئے

    ہمارے پاؤں میں جو راستہ تھا

    راستے میں پیڑ تھے

    پیڑوں پہ جتنی طائروں کی ٹولیاں

    ہم سے ملا کرتی تھیں

    اب وہ اڑتے اڑتے تھک گئی ہیں

    وہ گھنی شاخیں جو ہم پر سایا کرتی تھیں

    وہ سب مرجھا گئی ہیں

    تم اسے کہنا

    کبھی ملنے چلا آئے

    لبوں پر لفظ ہیں

    لفظوں میں کوئی داستاں قصہ کہانی

    جو اسے اکثر سناتے تھے

    کسے جا کر سنائیں گے

    بتائیں گے

    کہ ہم محراب ابرو میں ستارے ٹانکنے والے

    در لب بوسۂ اظہار کی دستک سے اکثر کھولنے والے

    کبھی بکھری ہوئی زلفوں میں ہم

    مہتاب کے گجرے بنا کر باندھنے والے

    چراغ اور آئنے کے درمیاں

    کب سے سر ساحل کھڑے موجوں کو تکتے ہیں

    اسے کہنا

    اسے ہم یاد کرتے ہیں

    اسے کہنا

    ہم آ کر خود اسے ملتے

    مگر مقتل بدلتے موسموں کے خون میں رنگین ہے

    اور ہم

    قطار اندر قطار ایسے بہت سے موسموں کے درمیاں

    تنہا کھڑے ہیں

    جانے کب اپنا بلاوا ہو

    کہ ہم میں آج بھی

    اک عمر کی وارفتگی اور وحشتوں کا رقص جاری ہے

    وہ بازی جو بساط جاں پہ کھیلی تھی

    ابھی ہم نے نہ جیتی ہے نہ ہاری ہے

    اسے کہنا کبھی ملنے چلا آئے

    کہ اب کی بار شاید

    اپنی باری ہے

    مأخذ :
    • کتاب : جنہیں راستے میں خبر ہوئی (Pg. 251)
    • Author : سلیم کوثر
    • مطبع : فضلی بکس ٹیمپل روڈ،اردو بازار، کراچی

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے