سرحدیں

فاضل جمیلی

سرحدیں

فاضل جمیلی

MORE BYفاضل جمیلی

    یہ سرحدیں.... پڑوسنیں

    کبھی ہنسی خوشی رہیں

    کبھی ذرا سی بات ہو تو لڑ پڑیں

    نہ آنگنوں میں ایک ساتھ رقص ہو

    نہ بام پر ہی باہمی قدم پڑے

    گلی میں کوئی کھیل ہو

    نہ تال ہو، نہ میل ہو

    کشیدگی کے نام پر گھٹن کی ریل پیل ہو

    یہ سرحدیں.... پڑوسنیں

    پڑوسنوں سے کیا کہیں

    جہاں میں رنجشوں کے سب گلیشئر پگھل گئے

    مگر یہاں کدورتوں کی برف ہے جمی ہوئی

    ہوا سے کس طرح کہیں

    چلے تو صرف ایک ہی طرف چلے

    یہ دھوپ بھی تو کب کسی کے بس میں ہے

    کہ پربتوں کو سرحدوں میں بانٹ دے

    یہ خار دار دائرے کہیں بھی کھینچتے چلو

    مگر کبھی کوئی صدا بھی رک سکی

    یہ خوشبوؤں کے قافلے

    رہیں گے ہر طرف رواں

    گلی میں آ ہی جائیں گی

    محبتوں کی تتلیاں

    یہ سرحدیں.... پڑوسنیں

    بنیں گی پھر سہیلیاں....!

    ویڈیو
    This video is playing from YouTube

    Videos
    This video is playing from YouTube

    فاضل جمیلی

    فاضل جمیلی

    RECITATIONS

    فاضل جمیلی

    فاضل جمیلی

    فاضل جمیلی

    سرحدیں فاضل جمیلی

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY