Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

شاعر

MORE BYشہباز مہتر

    تمہیں کیا لگتا ہے اللہ کی شاعر سے کوئی دشمنی ہے

    وہ شاعر کی مذمت کس لیے کرتا ہے اور تم آیتیں سر پر اٹھا کر شاعری پر تھوکتے ہو

    تمہیں کیا لگتا ہے تم وحی کے معنی سمجھتے ہو تمہیں الہام کا مطلب پتہ ہے

    تمہیں وہ لوگ حسان ابن ثابت کا تعارف کیوں نہیں کرواتے جو تم کو بتاتے ہیں کہ شاعر شر ہے جھوٹا ہے فسادی ہے

    وہ حسان ابن ثابت منبر نبوی پہ اپنی شاعری گاتا ہوا شاعر

    تمہیں معلوم ہے حسان کی خاطر دعائیں کون کرتا تھا

    ارے اقبال کے اقبال کو سر پر اٹھانے والو جب اقبالؔ کہتا ہے

    یہ دنیا دعوت دیدار ہے فرزند آدم کو

    کہ ہر مستور کو بخشا گیا ہے ذوق عریانی

    تو تم منہ کیوں چھپاتے ہو منافق ہو

    تمہیں کیا لگتا ہے تم شعر کی بنیاد پر اشعار کو دھتکار دو گے شاعروں کو مار دو گے

    تمہیں کیا لگتا ہے میں تم پہ کیوں روتا ہوں جب تم شاعروں کے کتبے غائب کرتے ہو

    تمہیں کیا لگتا ہے میں تم پہ کیوں ہنستا ہوں جب تم شاعروں کی قبروں کو ردی بنا کر بیچتے ہو

    تمہیں معلوم ہے یہ خضر اس کو بھی امر کر دیتے ہیں جس سے محبت کرتے ہیں

    تمہیں کیا لگتا ہے تخلیق کاری کس کا شیوہ ہوتا ہے

    الہام کس پہ ہوتا ہے اور وحی کس پہ آتی ہے

    تمہیں کیا لگتا ہے شاعر پہ جب الہام ہوتا ہے تو اس کے ذہن میں آنے سے پہلے مصرعے کس کے ہاتھ میں ہوتے ہیں

    ان کا کون نہلا کر نئے کپڑوں میں کنگھی کر کے ماتھا چومتا ہے

    تمہیں کیا لگتا ہے تم شاعروں کے سوچنے کی حد کو جا سکتے ہو بچے ہو

    جہاں تم اچھا بننے کے لیے گھس کے پہنچتے ہو وہاں پر شاعروں کی مشق کے متروک مصرعے باسی ہو کر مرتے ہیں

    شاعر وہاں مایوس رہتا ہے جہاں تم مکتی کے چکر میں جانا چاہتے ہو

    تمہیں کیا لگتا ہے شاعر کے بارے میں تمہیں جو لگتا ہے وہ ٹھیک ہے

    کیا ٹھیک ہے اور کیا نہیں ہے کون جانے پر میں اتنا جانتا ہوں

    ایک اچھے آدمی سے اک برا شاعر بڑا ہوتا ہے مہترؔ

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY

    Jashn-e-Rekhta 10th Edition | 5-6-7 December Get Tickets Here

    بولیے