شاعر
تمہیں کیا لگتا ہے اللہ کی شاعر سے کوئی دشمنی ہے
وہ شاعر کی مذمت کس لیے کرتا ہے اور تم آیتیں سر پر اٹھا کر شاعری پر تھوکتے ہو
تمہیں کیا لگتا ہے تم وحی کے معنی سمجھتے ہو تمہیں الہام کا مطلب پتہ ہے
تمہیں وہ لوگ حسان ابن ثابت کا تعارف کیوں نہیں کرواتے جو تم کو بتاتے ہیں کہ شاعر شر ہے جھوٹا ہے فسادی ہے
وہ حسان ابن ثابت منبر نبوی پہ اپنی شاعری گاتا ہوا شاعر
تمہیں معلوم ہے حسان کی خاطر دعائیں کون کرتا تھا
ارے اقبال کے اقبال کو سر پر اٹھانے والو جب اقبالؔ کہتا ہے
یہ دنیا دعوت دیدار ہے فرزند آدم کو
کہ ہر مستور کو بخشا گیا ہے ذوق عریانی
تو تم منہ کیوں چھپاتے ہو منافق ہو
تمہیں کیا لگتا ہے تم شعر کی بنیاد پر اشعار کو دھتکار دو گے شاعروں کو مار دو گے
تمہیں کیا لگتا ہے میں تم پہ کیوں روتا ہوں جب تم شاعروں کے کتبے غائب کرتے ہو
تمہیں کیا لگتا ہے میں تم پہ کیوں ہنستا ہوں جب تم شاعروں کی قبروں کو ردی بنا کر بیچتے ہو
تمہیں معلوم ہے یہ خضر اس کو بھی امر کر دیتے ہیں جس سے محبت کرتے ہیں
تمہیں کیا لگتا ہے تخلیق کاری کس کا شیوہ ہوتا ہے
الہام کس پہ ہوتا ہے اور وحی کس پہ آتی ہے
تمہیں کیا لگتا ہے شاعر پہ جب الہام ہوتا ہے تو اس کے ذہن میں آنے سے پہلے مصرعے کس کے ہاتھ میں ہوتے ہیں
ان کا کون نہلا کر نئے کپڑوں میں کنگھی کر کے ماتھا چومتا ہے
تمہیں کیا لگتا ہے تم شاعروں کے سوچنے کی حد کو جا سکتے ہو بچے ہو
جہاں تم اچھا بننے کے لیے گھس کے پہنچتے ہو وہاں پر شاعروں کی مشق کے متروک مصرعے باسی ہو کر مرتے ہیں
شاعر وہاں مایوس رہتا ہے جہاں تم مکتی کے چکر میں جانا چاہتے ہو
تمہیں کیا لگتا ہے شاعر کے بارے میں تمہیں جو لگتا ہے وہ ٹھیک ہے
کیا ٹھیک ہے اور کیا نہیں ہے کون جانے پر میں اتنا جانتا ہوں
ایک اچھے آدمی سے اک برا شاعر بڑا ہوتا ہے مہترؔ
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.