شام

MORE BYکیفی اعظمی

    مست گھٹا منڈلائی ہوئی ہے

    باغ پہ مستی چھائی ہوئی ہے

    جھوم رہی ہیں آم کی شاخیں

    نیند سی جیسے آئی ہوئی ہے

    بولتا ہے رہ رہ کے پپیہا

    برق سی اک لہرائی ہوئی ہے

    لہکے ہوئے ہیں پھول شفق کے

    آتش تر چھلکائی ہوئی ہے

    شعر مرے بن بن کے ہویدا

    قوس کی ہر انگڑائی ہوئی ہے

    رینگتے ہیں خاموش ترانے

    موج ہوا بل کھائی ہوئی ہے

    رونق عالم سر ہے جھکائے

    جیسے دلہن شرمائی ہوئی ہے

    گھاس پہ گم سم بیٹھا ہے کیفیؔ

    یاد کسی کی آئی ہوئی ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY