شیکسپئیر

جگن ناتھ آزاد

شیکسپئیر

جگن ناتھ آزاد

MORE BYجگن ناتھ آزاد

    دلچسپ معلومات

    یہ نظم مشہور ڈرامہ نگار شیکسپئر پر ہے

    اس طرح آج پھر آباد ہے ویرانۂ دل

    کہ ہے لبریز مئے شوق سے پیمانۂ دل

    دل بے تاب میں پنہاں ہے ہر ارمان نظر

    چشم مشتاق میں ہے سرخیٔ افسانۂ دل

    آج شمعوں سے یہ کہہ دو کہ خبردار رہیں

    آج بے دار ہے خاکستر پروانۂ دل

    اس کو ہے ایک فقط دیکھنے والا درکار

    طور سے کم تو نہیں جلوۂ جانانۂ دل

    جاگ بھی خواب سے اے مشرق و مغرب کے حکیم

    کہ ترے واسطے لایا ہوں میں نذرانۂ دل

    یہ ذرا دیکھ کہ آئے ہیں کہاں سے دونوں

    دل تری خاک کا دیوانہ میں دیوانۂ دل

    شوق کی راہ میں اک سخت مقام آیا ہے

    مرا ٹوٹا ہوا دل ہی مرے کام آیا ہے

    ساقیٔ جاں ترے مے خانے کا اک رند حقیر

    مثل بو توڑ کے ہر قید مقام آیا ہے

    اللہ اللہ تری بزم کا یہ عالم کیف

    میرے ہاتھوں میں چھلکتا ہوا جام آیا ہے

    ترے نام آج زمانے کے مہکتے ہوئے پھول

    غالبؔ و میرؔ کے گلشن کا سلام آیا ہے

    وہ مری حسرت دیرینہ کا شہباز جلیل

    کتنی مدت میں بالآخر تہہ دام آیا ہے

    تجھ کو بھی دل میں بسایا ہے جو اقبالؔ کے ساتھ

    تو کہیں جا کے یہ انداز کلام آیا ہے

    کیوں تجھے یہ ابدی نیند پسند آئی ہے

    اے کہ ہر لفظ ترا شان مسیحائی ہے

    ساقی مے کدۂ زیست ذرا آنکھ تو کھول

    تری تربت پہ سیہ مست گھٹا چھائی ہے

    جاگ بھی خواب سے دل دادۂ گل زار و چمن

    کہ ترے دیس کی باغوں پہ بہار آئی ہے

    جو ترے گھر میں ہے آج اس چمنستاں کو تو دیکھ

    ذرے ذرے کو جنون چمن آرائی ہے

    ہاتھوےؔ کا ہے مکاں وہ کہ ''مقام نو'' ہے

    جو بھی خطہ ہے وہ اک پیکر زیبائی ہے

    کچھ خبر بھی ہے کہ ایواں کی حسیں موجوں میں

    جو ترے دور میں تھی اب بھی وہ رعنائی ہے

    وہ ترا نغمہ کہ سینوں میں تپاں آج بھی ہے

    اہل احساس کا سرمایۂ جاں آج بھی ہے

    رند ہیں مشرق و مغرب میں اسی کے مشتاق

    وہ ترا بادۂ کہنہ کہ جواں آج بھی ہے

    آج بھی کعبۂ ارباب نظر ہے تری فکر

    ورثۂ اہل جنوں تیرا بیاں آج بھی ہے

    آج سے چار صدی قبل جو چمکا تھا کبھی

    ترے نغمات میں وہ سوز نہاں آج بھی ہے

    جس میں ہے بادہ جنوں کا بھی مئے ہوش کے ساتھ

    ترے ہاتھوں میں وہی رطل گراں آج بھی ہے

    تو نے تمثیل کے جادے پہ دکھایا جو کبھی

    وہی میل اور وہی سنگ نشاں آج بھی ہے

    ظلمت دہر کی راتوں میں سحر بار ہے تو

    زیست اک قافلہ ہے قافلہ سالار ہے تو

    تو ہر اک دور میں ہے دیدۂ بینا کی طرح

    ہر زمانے میں دل زندہ و بے دار ہے تو

    جس کی باتوں میں دھڑکتا ہے دل عصر رواں

    آج تمثیل زمانہ کا وہ کردار ہے تو

    کیوں نہ ہو لوح و قلم کو ترے اسلوب پہ ناز

    حسن گفتار ہے گنجینۂ افکار ہے تو

    بزم جاناں ہو تو انداز ترا پھول کی شاخ

    ظلم کے سامنے شمشیر جگر دار ہے تو

    تو کسی ملک کسی دور کا فن کار نہیں

    بلکہ ہر ملک کا ہر دور کا فن کار ہے تو

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY