شرارت کی میاں پپو نے ایسی
کہ ڈیڈی نے پٹائی ان کی کر دی
وہ ماں کے پاس پہونچے منہ بسورے
کہا ان سے بڑی سنجیدگی سے
ہمیں ڈیڈی نے کیوں مارا بتائیں
ضروری ہے کہ بچے مار کھائیں
کہا ممی نے سن کر بات ان کی
شرارت کی سزا ہے سب کو ملتی
یہ ممی آپ نے اچھی سنائی
شرارت کی سزا ہے بس پٹائی
تو ممی کیا ہمارے دادا ابا
جب آتا تھا یوں ہی ان کو بھی غصہ
کیا کرتے تھے ڈیڈی کی پٹائی
جو لڑتے کھیل میں تھے بھائی بھائی
کہا پپو نے کچھ ایسی ادا سے
کہ پیٹوں میں پڑے بل ہنستے ہنستے
کہا ممی نے یہ پپو میاں سے
یہ پوچھو جا کے تم ابو میاں سے
مگر اک بات میں تم کو جتاؤں
حقیقت کیا ہے یہ تم کو بتاؤں
شرارت میں جو ہوتی ہے حرارت
اتر جاتی ہے ہوتے ہی مرمت