شیر بیچارہ

احمد حاطب صدیقی

شیر بیچارہ

احمد حاطب صدیقی

MORE BYاحمد حاطب صدیقی

    شیر جنگل میں ہے اداس بہت

    جانور کم ہیں اور گھاس بہت

    سوچتا ہے کہ کیا کریں اب ہم

    کر لیا غور اور قیاس بہت

    ما بدولت کا ہو گیا پڑا

    تھی کبھی اپنی دھونس دھانس بہت

    سب رعایا چلی گئی زو میں

    نوکری آئی سب کو راس بہت

    سب کے جنگل کو چھوڑ جانے سے

    ہو گیا ہے ہمارا لاس بہت

    کھانے پینے کے پڑ گئے لالے

    چاہیے فیملی کو ماس بہت

    بچے ادھم مچائے رکھتے ہیں

    ان کو لگتی ہے بھوک پیاس بہت

    شيرنی نے بھی روز لڑ لڑ کر

    کر دیا ہے ہمارا ناس بہت

    وہ سمجھتی ہے آج بھی ہے گا

    مال و دولت ہمارے پاس بہت

    روز میک اپ کا چاہیے ساماں

    اور درکار ہیں لباس بہت

    اس سے شکوے شکایتیں سن کر

    طعنے دیتی ہے ہم کو ساس بہت

    جی میں آتا ہے خود کشی کر لیں

    زندگانی سے ہیں نراس بہت

    پر کبھی سوچتے ہیں شہر چلیں

    سونگھ لی جنگلوں کی باس بہت

    جا کے سرکس میں نوکری کر لیں

    گر ملیں تو ہیں سو پچاس بہت

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY