شکست ساز

ادا جعفری

شکست ساز

ادا جعفری

MORE BYادا جعفری

    میں نے گل ریز بہاروں کی تمنا کی تھی

    مجھے افسردہ نگاہوں کے سوا کچھ نہ ملا

    چند سہمی ہوئی آہوں کے سوا کچھ نہ ملا

    جگمگاتے ہوئے تاروں کی تمنا کی تھی

    میں نے موہوم امیدوں کی پناہیں ڈھونڈیں

    شدت یاس میں مبہم سا اشارہ نہ ملا

    ڈگمگاتے ہوئے قدموں کو سہارا نہ ملا

    ہائے کس دشت بلا خیز میں راہیں ڈھونڈیں

    اب فسوں ساز بہاروں سے مجھے کیا مطلب

    آج ہی میری نگاہوں میں وہ منظر توبہ

    میں نے دیکھے ہیں لپکتے ہوئے نشتر توبہ

    خلد بر دوش نظاروں سے مجھے کیا مطلب

    آسماں نور کے نغمات سے معمور سہی

    میں نے گھٹتی ہوئی چیخوں کے سنے ہیں نوحے

    ہائے وہ اشک جو پلکوں سے ڈھلک بھی نہ سکے

    زندگی حسن و جوانی سے ابھی چور سہی

    کبھی ضو پاش ستاروں کی تمنا تھی مجھے

    آج ذروں کو بھی مقصود بنا رکھا ہے

    آج کانٹوں کو کلیجے سے لگا رکھا ہے

    کبھی گل ریز بہاروں کی تمنا تھی مجھے

    ویڈیو
    This video is playing from YouTube

    Videos
    This video is playing from YouTube

    ادا جعفری

    ادا جعفری

    RECITATIONS

    عذرا نقوی

    عذرا نقوی

    عذرا نقوی

    شکست ساز عذرا نقوی

    مأخذ :
    • کتاب : Muntakhab Shahkar Nazmon Ka Album) (Pg. 255)
    • Author : Munavvar Jameel
    • مطبع : Haji Haneef Printer Lahore (2000)
    • اشاعت : 2000

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY