شکست

MORE BYشہرام سرمدی

    مجھے اپنے بیرون کی جستجو تھی

    کہ وہ آنکھ سے اپنی دیکھا تھا میں نے

    جزائر

    وہ سب ریختہ نا رسیدہ جزائر

    خلاؤں میں بکھرے گرے

    زیست آثار کے شائبے جن میں تھے

    اب مری جستجو یا ہوس کا

    ہدف بن گئے تھے

    میں ان کی تمنا لیے

    دل کش و مست راہوں میں

    اک عمر گھوما کیا

    ماہ و انجم کو چوما کیا

    اور کل شام

    بعد از سفر

    باہزاراں ظفر

    اپنے بیرون کی دستیابی کے

    جشن طرب میں

    میں جب شادماں تھا

    یکایک نگہ

    اندروں کی طرف مڑ گئی

    اک شکست عجب ذات سے جڑ گئی

    مآخذ:

    • کتاب : Na Mau'ud (Pg. 91)

    Tagged Under

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY