سوز و گداز

MORE BYآفتاب رئیس پانی پتی

    کیوں تامل ہے تجھے روز اجل آنے میں

    زیست کا لطف ملے گا مجھے مر جانے میں

    نہ سنو قصۂ آلام تڑپ جاؤ گے

    درد اور سوز بھرا ہے مرے افسانے میں

    قلب مضطر کو بنا رکھا ہے گھر حرماں نے

    اور کیا چیز ہے اس دل کے سیہ خانے میں

    اب چھلکنے کو ہے ساقی مرے جیون کا گلاس

    بھر گیا آب فنا عمر کے پیمانے میں

    خرمن صبر و سکوں خاک نہ ہو کیوں جل کر

    بجلیاں کوند رہی ہیں مرے کاشانے میں

    پردۂ جہل اٹھا دیجئے آنکھوں سے ذرا

    جلوۂ حق نظر آئے گا صنم خانے میں

    آفتابؔ آ کہ مصیبت کے ہیں آثار عیاں

    جوش وحشت ہے فزوں اور بھی دیوانے میں

    مأخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY