صبح کی آمد کے ساتھ

چندر بھان خیال

صبح کی آمد کے ساتھ

چندر بھان خیال

MORE BYچندر بھان خیال

    قریب صبح صدائے شکست جاں ابھری

    لبوں کا زہر اچانک پگھل گیا آخر

    سکوت جسم لہو پیتے پیتے چونک اٹھا

    یہ کون شب کی تمازت سے جل گیا آخر

    کراہتا سا اٹھا کوئی ٹوٹتا پیکر

    سیاہیوں میں سلگتا ہوا دھواں جیسے

    جھٹک کے دور ہوئی بستروں سے اکتاہٹ

    لپٹ گیا ہو کوئی سانپ ناگہاں جیسے

    عذاب روح مکانوں کا درد چاٹے گا

    بڑھیں گے شہر تمنا کی سمت سب سائے

    کشاکشوں کے سمندر میں ڈبکیاں لیتے

    ہر ایک ذات کی موجودیت سے اکتائے

    گھروں میں قید در و بام کی ہر اک الجھن

    گلی گلی کے لبوں سے لپٹ رہی ہوگی

    طبیعتوں کو سنبھالے ہوئے دھوئیں کی لکیر

    ورق کتاب نفس کے الٹ رہی ہوگی

    رہے گا یوں ہی سروں پر عتاب کا سورج

    اسی طرح سے بسر ہوتے جائیں گے دن رات

    کلیجہ منہ میں رکھے اور سینے پر پتھر

    گزار دیں گے گزرتے ہوئے سبھی صدمات

    مأخذ :
    • کتاب : Shoalon Ka Shajar (Pg. 27)
    • Author : Chander Bhan Khayal
    • مطبع : Sutoor Parkashan (1969)
    • اشاعت : 1969

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY

    Jashn-e-Rekhta | 2-3-4 December 2022 - Major Dhyan Chand National Stadium, Near India Gate, New Delhi

    GET YOUR FREE PASS
    بولیے