سرخ اناروں کے موسم میں

سرمد صہبائی

سرخ اناروں کے موسم میں

سرمد صہبائی

MORE BYسرمد صہبائی

    سرخ اناروں کے موسم میں

    ریشم کے ملبوس سے پھوٹا

    عریانی کی دھوپ کا جھرنا

    آئینے میں

    گردن کے گلدان سے نکلا

    پھول سا چہرہ

    آہستہ سے

    گندھے ہوے بالوں کی ڈالی

    گر کے گھاٹ پہ جھک جاتی ہے

    اک لمحے کو ہر شے جیسے رک جاتی ہے

    پلک جھپکتے آئینے میں

    اک خونی ڈائن کا عکس ابھر آتا ہے

    چھت پر اک فانوس کی مٹھی

    آہستہ سے کھل جاتی ہے

    جیسے چیل کے پر کھلتے ہیں

    خوشبو رنگ ہوا اور سائے

    اس لمحے پتھرا جاتے ہیں

    آنکھوں کی شیشی میں کیسی زمروں کا تیزاب بھرا ہے

    قطرہ قطرہ

    اس تیزاب کی لفظوں میں تقطیر ہوئی ہے

    دیکھتے دیکھتے

    آس کی صورت

    میری ہی تصویری ہوئی ہے

    مأخذ :
    • کتاب : meyaar (Pg. 61)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے