تعارف

MORE BYنشتر امروہوی

    مرے دادا جو برٹش فوج کے نامی بھگوڑے تھے

    نہ جانے کتنی جیلوں کے انہوں نے قفل توڑے تھے

    چرس کا اور گانجے کا وہ کاروبار کرتے تھے

    خدا سے بھی نہیں ڈرتے تھے بس بیگم سے ڈرتے تھے

    مرے تائے بھی اپنے وقت کے مشہور چیٹر تھے

    کئی جیلوں کے تو وہ ہاف ایرلی بھی وزیٹر تھے

    ہر اک غنڈہ انہیں گھر بیٹھے غنڈہ ٹیکس دیتا تھا

    تجوری توڑنے کا فن انہیں سے میں نے سیکھا تھا

    چچا مرحوم ناسک جیل سے جب واپس آئے تھے

    تو مشہور زمانہ اک طوائف ساتھ لائے تھے

    وہ ٹھمری دادرا اور بھیرویں میں بات کرتی تھی

    ترنم میں ثریا اور لتا کو مات کرتی تھی

    مرے والد خدا بخشے کہیں آتے نہ جاتے تھے

    سحر سے شام تک اماں کے آگے دم ہلاتے تھے

    تھی اک بکرے نما براق داڑھی ان کے چہرے پر

    مگر پھر بھی کبڈی کھیلتے تھے رات کو اکثر

    میں اپنے باپ دادا کے ہی نقش پا پہ چلتا ہوں

    مگر بس فرق اتنا ہے وہ غنڈے تھے میں نیتا ہوں

    پولس پیچھے تھی ان کے تھرڈ ڈگری کی ضیافت کو

    مرے پیچھے بھی رہتی ہے مگر میری حفاظت کو

    نہیں پروا کہ لیڈر کون اچھا کون گندہ ہے

    سیاست میری روزی ہے الیکشن میرا دھندہ ہے

    سیاست میں قدم رکھ کر حقیقت میں نے یہ جانی

    چرا کارے کند عاقل کہ باز آید پشیمانی

    مآخذ :
    • کتاب : Post Martum (Pg. 73)
    • Author : Nashtar Amrohvi
    • مطبع : M.R. Publications (2012)
    • اشاعت : 2012

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY