تدفین

MORE BYاحمد ندیم قاسمی

    تدفین

    چار طرف سناٹے کی دیواریں ہیں

    اور مرکز میں اک تازہ تازہ قبر کھدی ہے

    کوئی جنازہ آنے والا ہے

    کچھ اور نہیں تو آج شہادت کا کلمہ سننے کو ملے گا

    کانوں کے اک صدی پرانے قفل کھلیں گے

    آج مری قلاش سماعت کو آواز کی دولت ارزانی ہوگی

    دیواروں کے سائے میں اک بہت بڑا انبوہ نمایاں ہوتا ہے

    جو آہستہ آہستہ قبر کی جانب آتا ہے

    ان لوگوں کے قدموں کی کوئی چاپ نہیں ہے

    لب ہلتے ہیں لیکن حرف صدا بننے سے پہلے مر جاتے ہیں

    آنکھوں سے آنسو جاری ہیں

    لیکن آنسو تو ویسے بھی

    دل و دماغ کے سناٹوں کی تمثالیں ہوتے ہیں

    میت قبر میں اتری ہے

    اور حد نظر تک لوگ بلکتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں

    اور صرف دکھائی دیتے ہیں

    اور کان دھرو تو سناٹے ہی سنائی دیتے ہیں

    جب قبر مکمل ہو جاتی ہے

    اک بوڑھا جو ''وقت'' نظر آتا ہے اپنے حلیے سے

    ہاتھوں میں اٹھائے کتبہ قبر پہ جھکتا ہے

    جب اٹھتا ہے تو کتبے کا ہر حرف گرجنے لگتا ہے

    یہ لوح مزار ''آواز'' کی ہے!

    مآخذ:

    • کتاب : Urdu-1983 (Pg. 152)
    • Author : Nand Kishore Vikram
    • مطبع : Publisher & Advertisers J-6, Krishan Nagar, Delhi-110051 (1983)
    • اشاعت : 1983

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY