تحریر

MORE BYاحمد ندیم قاسمی

    ہوا لہروں پہ لکھتی ہے تو پانی پر تحریر کرتا ہے

    کہ ہم فرزند آدم کی طرح سب نقش گر ہیں

    اہل فن ہیں

    زندگی تخلیق کرتے ہیں

    ستارہ ٹوٹ جاتا ہے

    مگر بجھنے سے پہلے اپنی اس جگ مگ عبارت سے فنا پر خندہ زن ہوتا ہے

    میں مٹ کر بھی آنے والے لمحوں میں درخشاں ہوں

    جو پتا شاخ سے گرتا ہے

    قرطاس ہوا پر دائروں میں لکھتا آتا ہے

    کہ شاخوں پر تڑپتے دوستو

    اگلی بہاروں میں مجھے پھر لوٹنا ہے پھوٹنا ہے ٹوٹنا ہے خاک ہونا ہے

    مگر وہ خاک جو اشجار کی ماں ہے

    وہ کوندا جو گھٹا پر ثبت کر کے دستخط اپنے

    بظاہر جا چکا ہوتا ہے

    چھپ کر دیکھتا ہے

    کس طرح تاریکیوں میں زلزلے آتے ہیں

    منظر جاگ اٹھتے ہیں

    وہ جاں جو پس در کتنے برسوں سے تنہا ہے

    اک صحیفہ ہے

    کبھی سورج کی کرنوں میں اسے دیکھو

    تو پوری کائنات اس میں مجسم پاؤ گے اور جھوم جاؤ گے

    کتابیں پڑھنے والے تو نہ مانیں گے

    مگر از خاک تا افلاک جو کچھ بھی ہے وہ تحریر ہے

    الفاظ ہیں اعراب ہیں نقطے ہیں شوشے ہیں کشیں ہیں دائرے ہیں حرف ہیں جن میں طلسم زندگی

    اسرار کا اظہار کرتا ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY