تخلیق کی ساعتوں میں

انجم سلیمی

تخلیق کی ساعتوں میں

انجم سلیمی

MORE BYانجم سلیمی

    کچھ کہوں تو دم گھٹتا ہے

    اور خاموشی مجھے اندر سے کاٹتی ہے

    خیالات پر لفظوں کے پہناوے

    پورے نہیں آتے

    کاغذوں پر دکھ اتارنا بھی تو دکھ کی بات ہے

    نظمیں مجھے خالی کر دیتی ہیں

    یہ شاعری تو مجھے عریاں کر دے گی!

    میں اور کتنے چہرے پہنوں

    بینائی کے جمگھٹے میں

    بار بار خود سے بچھڑ جاتا ہوں

    سو میں نے اپنی یاد داشت میں ایک

    تنہائی تخلیق کی

    تاکہ اس میں بیٹھ کر مجھے خود کو دہرانے

    کا موقعہ ملتا رہے

    فرصت نے مجھے تھکا دیا تھا

    شکر ہے! میں اپنے کسی کام تو آیا!

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY