تلاش آخر

علی اکبر عباس

تلاش آخر

علی اکبر عباس

MORE BYعلی اکبر عباس

    آؤ آج سے ہم بھی

    خوف خوف ہو جائیں

    خوف بھی تو نشہ ہے

    خوف بھی تو قوت ہے

    خوف کے لیے بھی تو

    جان کی ضرورت ہے

    آؤ اپنی طاقت کو

    ہم بھی آزما دیکھیں

    خوف خوف ہو جائیں

    خود نمائی کے تیور

    ڈھنگ پردہ داری کے

    ہم نوائی کے دعوے

    رنگ دشمنی کے سب، خوف کی علامت ہیں

    قربتوں کی خواہش میں

    سر گرانیاں کیا کیا

    دوریوں کے حق میں بھی

    معرکے دلائل کے

    ایک آنکھ لذت ہے

    ایک آنکھ وحشت ہے

    ہم نے دونوں آنکھوں سے

    کوئی شے نہیں دیکھی

    آؤ دونوں آنکھوں کو

    بند کر کے رکھ چھوڑیں

    اور پھر کوئی بھی شے

    سوچ لیں کہ ایسی ہے

    خوف خوف ہو جائیں

    مآخذ :
    • کتاب : Ber Aab e Neel (Pg. 147)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY